ترک افواج کی شام میں تعیناتی روکنے کے لیے اسرائیلی حملوں سے قبل موساد چیف نے کس سے رابطہ کیا؟
اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوفمین اور شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کے درمیان گزشتہ ہفتے ٹیلی فون پر اہم گفتگو ہوئی جس میں شام میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے دعویٰ کیا کہ 14 اگست کو ہونے والا یہ رابطہ شامی صدر احمد الشرع کی زیرِ قیادت قائم ہونے والی نئی حکومت اور اسرائیل کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا رابطہ تھا، جس کے کچھ ہی دنوں بعد اسرائیل نے شام کے ابو الظہور ایئر بیس پر بمباری کی تھی۔
شام کے ایئر بیس پر حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمین نیتن یاہو نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ دمشق حکومت ترکیہ کے فوجیوں کو اس ایئر بیس پر تعینات کرنے کی اجازت دینے کے بالکل قریب تھی اور شام نے اسرائیل کی ان بار بار کی تنبیہات کو بھی نظر انداز کیا کہ ترکیہ کی یہ پیش قدمی اسرائیل کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق موساد کے سربراہ کی شامی وزیرِ خارجہ کے ساتھ بات چیت میں ترکیہ کی عسکری امداد کا موضوع زیرِ بحث رہا۔
رائٹرز کے مطابق، ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ اس رابطے کے دوران موساد چیف نے شام کو ترکیہ کی جانب سے ڈرونز، اسلحے کی فراہمی اور دیگر عسکری سامان کی خریدو فروخت سے متعلق سخت سوالات کیے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں واضح موقف اپنایا کہ اسرائیل شام میں ترکیہ کی کسی بھی ایسی عسکری موجودگی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ”ہم نے ترکیہ کو واضح طور پر منع کیا تھا کہ ایسا نہ کرے، لگتا ہے کہ انہوں نے ہمارا پیغام نہیں سنا تھا، اسی لیے ہم نے یقینی بنایا کہ وہ اس بات کو مزید بہتر انداز میں سمجھ سکیں“۔
دوسری جانب ترکیہ کی صدارت نے اسرائیل کے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ترکیہ کے صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر اپنے غیر قانونی فضائی حملوں کو جائز قرار دینے کے لیے ایسے من گھڑت الزامات لگا رہا ہے، اور ترکیہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے شامی حکومت کے ساتھ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے تعاون جاری رکھے گا۔
اس کے علاوہ ترکیہ اور عراق کے لیے امریکی سفیر ٹام بیرک نے بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ایک غیر ضروری کشیدگی ہیں جن سے علاقائی استحکام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ واشنگٹن اس وقت اسرائیل، ترکیہ اور شام کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور معلومات کے تبادلے کا ایک نظام قائم کرنے پر کام کر رہا ہے۔